ابنا: العالم نے جمعہ کو عيني شاہدوں کے حوالے سے خبردي ہے کہ يمن کے جنوبي شہر تعز کے رہائشي علاقوں پر بمباري ميں دسيوں افراد جاں بحق اور سيکڑوں زخمي ہوگئے۔ اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ زخميوں ميں متعدد افراد کي حالت نازک ہے۔ يہ ايسي حالت ميں ہے کہ عبداللہ صالح کے صدارتي گارڈ کے فوجي تعزشہر کے عوام کے مظاہروں کو کچلنے کے لئے دسيوں ٹينک کے ہمراہ اس علاقے کي جانب روانہ ہوگئے ہيں۔ اس درميان صنعا ميں مظاہرين کے مجمع ميں کار بم کا دھماکہ ہواہے - صنعا ميں انقلابي نوجوانوں کا کہناہے کہ يہ دھماکہ يمني سيکورٹي فورس اور عبداللہ صالح کے ايجنٹوں نے کيا ہے۔ ايک انقلابي نوجوان ليڈر وليد العماري نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ يمني حکومت کے ايجنٹوں کے ايک گروہ نے جس کے ہاتھ ميں لاٹھي اور ڈنڈے تھے صنعا ميں مظاہرين پر حملہ کرکے ان کے پرامن مظاہرے کو کچلنے کي کوشش اور انہي نے مظاہرين کے مجمع ميں کار بم کا دھماکہ کيا جس کے نتجے ميں بہت سے مظاہرين زخمي ہوگئے۔
............
/169